آپ ﷺ کا کلامِ مبارک ایک موتیوں کی لڑی ہوتا کہ جیسے موتی پرو دیے گئے ہوں۔
آپ ﷺ بلند آواز، خوش گلو اور ایسے شیریں کلام تھے کہ نہ زیادہ بولتے اور نہ کم۔
ابوالفضل قاضی عیاضؒ کی مستند کتاب "الشفاء شریف" کی پانچویں فصل میں ام معبدؓ کا یہ بیان درج ہے۔
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے "سبحان اللہ" لکھیں اور فالو کریں!
پانچویں فصل | آپ ﷺ کی فصاحت و بلاغت (حصہ 11)
ام معبد رضی اللہ عنھا نے آپ ﷺ کے کلام میں فصاحت و بلاغت کی تعریف میں کہا کہ آپ ﷺ شیریں کلام تھے نہ زیادہ بولتے ( کہ سننے والے کو گراں گزرے) اور نہ کم بولتے ( کہ سننے والے مفہوم ہی نہ سمجھے) آپﷺ کا کلام ایک موتیوں کی لڑی ہوتا کہ موتی پرو دیے گئے ہیں، آپ ﷺ بلند آواز اور خوش گلو تھے۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#KalamEMustafa
#Fasahat
#UmmMabad
#ProphetMuhammad
#SeeratUnNabi
#Seerah
#Fasahat
#Islam
#PropheticSpeech
#IslamicShorts
#AshShifa
#TGG
#ThinkGoodGreen